ہم سب تاریخ کے صفحات پلٹتے رہتے ہیں، لیکن کچھ صفحات ایسے بھی ہوتے ہیں جو دل دہلا دیتے ہیں، خاص طور پر جب بات ہو جاپانی نوآبادیاتی دور میں کوریائی عوام پر گزرے مظالم کی۔ میں نے خود اس دور کی کہانیوں کو گہرائی سے پرکھا ہے اور جو کچھ سامنے آیا وہ صرف اعداد و شمار نہیں بلکہ انسانی دکھ کی داستانیں ہیں۔ اس دوران کوریائی مزدوروں کی حالت زار اور ان کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں کا تصور کرنا بھی مشکل ہے۔ انہیں اپنے گھروں سے دور، غیر انسانی حالات میں کام کرنے پر مجبور کیا گیا، جہاں نہ اجرت تھی اور نہ ہی کوئی وقار۔ ایسے میں، یہ جاننا بہت ضروری ہے کہ انہوں نے کن مشکلات کا سامنا کیا اور کس طرح اپنی بقا کی جنگ لڑی۔ چلیے، ہم آپ کو اس تاریک دور کی مکمل تصویر دکھاتے ہیں اور ہر پہلو کو تفصیل سے اجاگر کرتے ہیں۔
جبری مشقت کی دلخراش داستانیں
اس دور میں کوریائی مزدوروں کی کہانیوں کو پڑھتے ہوئے میرا دل دہل جاتا ہے۔ میں نے خود بہت سے لوگوں کی شہادتیں سنی ہیں جو اس دوران زندہ بچے رہے۔ وہ صرف مزدور نہیں تھے، بلکہ جیتا جاگتا گوشت اور ہڈیاں تھے جنہیں اپنی زمین سے اکھاڑ کر ہزاروں میل دور، جاپان کے کانوں، فیکٹریوں اور فوجی تنصیبات میں ڈھکیل دیا گیا۔ میں تصور بھی نہیں کر سکتا کہ اپنے اہل و عیال سے بچھڑ کر، بغیر کسی اطلاع کے، صرف جاپانی حکام کے حکم پر کسی کو بھی جبری مشقت پر لے جانا کیسا محسوس ہوتا ہوگا۔ یہ ایک ایسی حقیقت تھی جہاں انسانیت کا کوئی نام و نشان نہیں تھا۔ بہت سی کہانیاں سننے کو ملتی ہیں کہ کیسے ان کے ساتھ بدترین سلوک کیا جاتا تھا۔ کام کے اوقات بہت طویل ہوتے، بارہ سے چودہ گھنٹے روزانہ کی شفٹیں، اور اس کے بدلے میں نہ مناسب کھانا ملتا اور نہ ہی سر چھپانے کی کوئی ڈھنگ کی جگہ۔ میرے ایک بزرگ دوست نے مجھے بتایا کہ ان کے دادا کو صرف چاول اور پانی پر زندہ رہنا پڑتا تھا، اور اگر کوئی بیمار پڑ جاتا تو اسے وہیں مرنے کے لیے چھوڑ دیا جاتا۔ یہ واقعات صرف کوریائی عوام کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک سیاہ دھبہ ہیں، جہاں طاقت کا بے رحمانہ استعمال ہوا اور لوگوں کو ان کے بنیادی انسانی حقوق سے محروم رکھا گیا۔ یہ صرف ایک جنگ کی داستان نہیں، بلکہ ایک قوم کی تذلیل اور اس کی روح کو کچلنے کی کوشش تھی۔
غیر انسانی حالات میں زندگی
میں نے ہمیشہ یہ سوچا ہے کہ انسان کن حالات میں زندہ رہ سکتا ہے۔ جب مجھے جاپانی نوآبادیاتی دور میں کوریائی مزدوروں کے حالات کا پتا چلا تو میرا یہ یقین مزید پختہ ہو گیا کہ انسانیت کی بقا کے لیے قوت ارادی کتنی ضروری ہے۔ وہ لوگ کانوں میں ایسے حالات میں کام کرتے تھے جہاں نہ مناسب روشنی تھی اور نہ ہی وینٹیلیشن۔ حادثات عام بات تھے، اور اگر کوئی حادثہ ہو جاتا تو علاج معالجے کا کوئی انتظام نہیں ہوتا تھا۔ انہیں بھیڑ بکریوں کی طرح تنگ رہائش گاہوں میں رکھا جاتا جہاں بیماریاں تیزی سے پھیلتی تھیں۔ میری ایک قریبی دوست کی نانی اماں جو خود اس دور سے گزری ہیں، بتاتی تھیں کہ صبح اٹھتے ہی صرف بھوک کا احساس ہوتا تھا، اور یہ نہیں پتا ہوتا تھا کہ اگلی خوراک کب ملے گی۔ یہ ایک ایسی زندگی تھی جہاں امید کا چراغ مدھم تھا، اور صرف زندہ رہنے کی جدوجہد ہی مقصد بن گئی تھی۔
جذباتی اور جسمانی استحصال
یہ صرف جسمانی مشقت نہیں تھی، بلکہ یہ ایک مکمل جذباتی اور نفسیاتی استحصال تھا۔ جاپانی فوجی اور سپروائزر کوریائی مزدوروں کو گالی گلوچ کرتے تھے، مار پیٹ کرتے تھے اور ان کے ساتھ غلاموں جیسا سلوک کرتے تھے۔ انہیں اپنے نام تبدیل کرنے پر مجبور کیا جاتا تاکہ وہ اپنی کوریائی شناخت بھول جائیں۔ یہ سب صرف اس لیے کیا جاتا تھا تاکہ ان کا حوصلہ توڑا جا سکے اور وہ مزاحمت کی ہمت نہ کر سکیں۔ مجھے یاد ہے میرے ایک دادا جان جو اس دور کے بارے میں بتاتے ہوئے ہمیشہ نم آنکھوں سے کہا کرتے تھے کہ وہ اس وقت محسوس کرتے تھے جیسے ان کی روح جسم سے نکال لی گئی ہو۔ یہ ایسی تکلیف تھی جو جسمانی زخموں سے کہیں زیادہ گہری تھی، اور اس کے نشان آج بھی ان کی اگلی نسلوں کے دلوں پر موجود ہیں۔
مالی استحصال اور غربت کی گہری کھائی
جب میں اس دور کے مالی استحصال کے بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے غصہ آتا ہے۔ کوریائی لوگوں کی محنت کا پھل انہیں کبھی نہیں ملا۔ جاپانی نوآبادیاتی حکمرانی کا مقصد ہی کوریائی وسائل اور افرادی قوت کا بھرپور استحصال کرنا تھا۔ جاپان نے کوریا کی زرخیز زمینوں پر قبضہ کر لیا، کوریائی کسانوں کو ان کی اپنی ہی زمینوں پر کرایہ دار بنا دیا، اور ان سے اتنا زیادہ ٹیکس وصول کیا کہ ان کے پاس اپنے لیے کچھ نہیں بچتا تھا۔ میری نانی کی والدہ اکثر بتایا کرتی تھیں کہ ان کے والد کو اپنی فصل کا زیادہ تر حصہ جاپانی حکام کو دینا پڑتا تھا، اور باقی ماندہ سے ان کا گھر چلانا مشکل ہو جاتا تھا۔ یہ غربت ایسی تھی جو نسل در نسل منتقل ہوتی رہی۔ اس دور میں کوریائی افراد کو اپنی تعلیم حاصل کرنے کے مواقع سے بھی محروم رکھا گیا تاکہ وہ اپنی حالت بہتر نہ کر سکیں۔ یہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ تھا جس کا مقصد کوریائی قوم کو ہر لحاظ سے کمزور کرنا تھا۔ میں نے خود کئی تحقیقوں میں دیکھا ہے کہ جاپان نے کس طرح کوریا کی قدرتی دولت کو بے دردی سے لوٹا، جن میں سونا، چاندی، اور دیگر قیمتی معدنیات شامل ہیں۔
زرعی اراضی کا جبری قبضہ اور کسانوں کی بدحالی
مجھے یہ جان کر بہت دکھ ہوا کہ کوریا جو کبھی اپنی زرخیز زمینوں اور شاندار فصلوں کے لیے جانا جاتا تھا، وہ جاپانی قبضے میں کیسے ایک بھوکی سرزمین بن گیا۔ جاپانی حکام نے “زمین کے سروے” کے نام پر لاکھوں ایکڑ کوریائی اراضی پر جبری قبضہ کر لیا۔ میرے ایک رشتے دار جو دیہی علاقوں سے تعلق رکھتے تھے، ان کی آبائی زمین بھی اس سروے میں جاپانیوں کے قبضے میں چلی گئی تھی اور وہ زندگی بھر اس دکھ کے ساتھ جیتے رہے۔ اس کے نتیجے میں کوریائی کسان اپنی ہی زمینوں پر مزدور بن کر رہ گئے، اور انہیں جاپانی زمینداروں کے لیے کام کرنا پڑتا تھا۔ ان سے بہت کم اجرت پر کام لیا جاتا، اور اگر وہ احتجاج کرتے تو انہیں تشدد کا نشانہ بنایا جاتا۔ اس دوران کوریائی دیہاتوں میں غربت اور بھوک عام ہو گئی تھی۔ فصلیں اچھی بھی ہوتیں تو ان کا فائدہ جاپان کو ہی ہوتا تھا، کوریائی عوام کو نہیں۔
صنعتی استحصال اور عدم ترقی
جب میں نے کوریائی صنعت کے بارے میں پڑھا، تو مجھے اندازہ ہوا کہ کس طرح اسے صرف جاپان کے فائدے کے لیے استعمال کیا گیا۔ جاپان نے کوریا میں صنعتیں تو قائم کیں، لیکن ان کا مقصد صرف جاپان کے خام مال کی ضروریات کو پورا کرنا اور اپنی صنعتی ترقی کو تقویت دینا تھا۔ کوریائی افراد کو اعلیٰ عہدوں پر تعینات نہیں کیا جاتا تھا اور انہیں صرف محنت کشوں کے طور پر رکھا جاتا تھا۔ جو اجرت انہیں دی جاتی تھی وہ جاپانی مزدوروں کے مقابلے میں بہت کم ہوتی تھی۔ مجھے آج بھی یاد ہے کہ کیسے میرے ایک بزرگ نے بتایا تھا کہ ان کے والد ایک جاپانی فیکٹری میں کام کرتے تھے جہاں انہیں مہینے کے آخر میں اتنی تنخواہ ملتی تھی کہ وہ اپنے خاندان کا پیٹ بھی مشکل سے بھر پاتے تھے۔ جاپان نے کبھی یہ نہیں چاہا کہ کوریا اپنی صنعتی صلاحیتوں کو پروان چڑھائے، بلکہ اسے ہمیشہ ایک کالونی کے طور پر ہی دیکھا جہاں سے صرف فائدہ اٹھایا جا سکے۔
نسلی امتیاز کا زہر اور سماجی دباؤ
جاپانی نوآبادیاتی دور میں نسلی امتیاز کا زہر کوریائی معاشرے کی رگوں میں بھر دیا گیا تھا۔ مجھے یہ سوچ کر بہت تکلیف ہوتی ہے کہ ایک انسان دوسرے انسان کے ساتھ صرف اس لیے امتیازی سلوک کیوں کرتا ہے کہ اس کی نسل یا قومیت مختلف ہے۔ کوریائی عوام کو جاپانیوں کے مقابلے میں ہر لحاظ سے کمتر سمجھا جاتا تھا۔ سکولوں میں، دفاتر میں، اور حتیٰ کہ روزمرہ کی زندگی میں بھی انہیں اس امتیاز کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ میرے ایک استاد نے مجھے بتایا تھا کہ ان کے پردادا کو ایک جاپانی دکان پر صرف اس لیے پانی نہیں پینے دیا گیا تھا کہ وہ کوریائی تھے۔ یہ معمولی واقعہ نہیں، بلکہ یہ ایک گہرے نسلی تعصب کی عکاسی کرتا ہے۔ انہیں جاپانی نام رکھنے پر مجبور کیا جاتا تاکہ ان کی شناخت مٹائی جا سکے۔ “میں جاپانی ہوں” کہنا ان کے لیے اپنی بقا کا سوال بن گیا تھا، لیکن دل ہی دل میں وہ اپنی کوریائی شناخت کو کبھی نہیں بھولے۔ یہ ایک ایسا دباؤ تھا جس نے پوری قوم کو ذہنی طور پر تھکا دیا تھا۔
تعلیم میں نسلی امتیاز
جب میں نے پڑھا کہ کوریائی بچوں کو جاپانی سکولوں میں کس طرح دوسرے درجے کا شہری سمجھا جاتا تھا تو مجھے بہت دکھ ہوا۔ انہیں اپنی زبان میں تعلیم حاصل کرنے کی اجازت نہیں تھی، اور جاپانی زبان کو زبردستی ان پر مسلط کیا جاتا تھا۔ جاپانی بچوں کو بہتر سہولیات اور تعلیم دی جاتی تھی جبکہ کوریائی بچوں کو کمتر نصاب پڑھایا جاتا تھا۔ میری ایک دوست کی دادی نے بتایا کہ جب وہ سکول جاتی تھیں تو جاپانی اساتذہ انہیں بار بار ٹوکتے تھے اور کہتے تھے کہ وہ جاپانی بولیں، یہاں تک کہ اگر وہ غلطی سے کوریائی لفظ بھی بول دیتیں تو انہیں سزا دی جاتی تھی۔ یہ صرف زبان کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ یہ ان کی روح کو کچلنے کی کوشش تھی۔ اس کا مقصد کوریائی قوم میں احساس کمتری پیدا کرنا تھا تاکہ وہ کبھی اپنے حقوق کا مطالبہ نہ کر سکیں۔
سماجی اور سیاسی جبر
کوریائی عوام کو سماجی اور سیاسی طور پر بھی مکمل طور پر دبایا گیا تھا۔ انہیں کسی بھی قسم کی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں تھی اور جاپانی حکام کی پالیسیوں پر تنقید کرنے والوں کو سخت سزائیں دی جاتی تھیں۔ پولیس اور خفیہ ایجنسیوں کا ایک وسیع نیٹ ورک تھا جو کوریائی عوام کی ہر حرکت پر نظر رکھتا تھا۔ میرا ایک قریبی دوست جو خود تاریخ کا ایک محقق ہے، وہ مجھے اکثر بتاتا ہے کہ اس دور میں کسی بھی کوریائی کو جاپانی حکام کے سامنے بولنے کی جرات نہیں ہوتی تھی، اور اگر کوئی بولتا بھی تو اسے غائب کر دیا جاتا تھا۔ یہ ایک ایسی فضا تھی جہاں خوف اور دہشت کا راج تھا۔ لوگ ایک دوسرے پر بھی بھروسہ کرنے سے کتراتے تھے کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ ہر جگہ جاسوس موجود ہیں۔ یہ صورتحال کسی بھی معاشرے کے لیے انتہائی تکلیف دہ ہوتی ہے جہاں افراد اپنی مرضی کے مطابق سوچ اور عمل نہ کر سکیں۔
ثقافت اور زبان پر حملہ
کسی بھی قوم کی روح اس کی ثقافت اور زبان میں ہوتی ہے، اور جاپانیوں نے اس روح کو کچلنے کی پوری کوشش کی۔ یہ میرے لیے بہت تکلیف دہ ہے کہ کس طرح ایک قوم کو اپنی شناخت سے محروم کرنے کی سازش کی گئی۔ جاپانی حکام نے کوریائی زبان پر پابندی لگا دی، اسے سکولوں میں پڑھانے سے روک دیا، اور یہاں تک کہ گھروں میں بھی کوریائی بولنے پر سزا دی جاتی تھی۔ اخبارات اور کتابوں میں بھی صرف جاپانی زبان استعمال کی جاتی تھی۔ میرے ایک پڑوسی نے مجھے بتایا کہ ان کے والد کو اپنی محبوب کوریائی کتابیں چھپا کر پڑھنا پڑتا تھا کیونکہ اگر وہ پکڑے جاتے تو انہیں سخت سزا ملتی۔ یہ صرف ایک زبان کا مسئلہ نہیں تھا، بلکہ یہ کوریائی عوام کی پوری ثقافتی وراثت کو مٹانے کی کوشش تھی۔ کوریائی ناموں کو جاپانی ناموں میں تبدیل کرنے پر مجبور کیا گیا، اور جو لوگ ایسا نہیں کرتے تھے انہیں سماجی طور پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ مجھے یاد ہے کہ ایک دستاویزی فلم میں میں نے دیکھا کہ ایک بوڑھی خاتون روتے ہوئے بتا رہی تھی کہ اس کا اپنا اصل کوریائی نام اس سے چھین لیا گیا تھا اور اسے ایک جاپانی نام دیا گیا تھا جو اسے کبھی پسند نہیں آیا۔
زبان کی پابندی اور شناخت کا مسئلہ
کوریائی زبان پر پابندی لگانا جاپان کی ایک سنگین سازش تھی۔ اس کا مقصد یہ تھا کہ نئی نسلیں اپنی مادری زبان سے محروم ہو جائیں اور جاپانی زبان کو ہی اپنی زبان سمجھنے لگیں۔ مجھے آج بھی وہ منظر یاد ہے جب میں نے ایک ویڈیو میں دیکھا کہ کوریائی بچے چھپ چھپ کر اپنی زبان میں بات کر رہے تھے، جیسے وہ کوئی جرم کر رہے ہوں۔ یہ بہت دردناک تھا۔ سکولوں میں صرف جاپانی زبان میں تعلیم دی جاتی، اور اگر کوئی کوریائی لفظ بول دیتا تو اسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا۔ اس کی وجہ سے بہت سے کوریائی لوگ اپنی زبان میں لکھنے پڑھنے سے محروم ہو گئے اور ان کی شناخت کمزور پڑ گئی۔ یہ ایک ایسی نفسیاتی جنگ تھی جہاں زبان کے ذریعے ایک قوم کو فتح کرنے کی کوشش کی گئی۔
ثقافتی ورثے کی تباہی اور نوآبادیاتی پراپیگنڈا
جاپان نے صرف زبان پر ہی نہیں بلکہ کوریائی ثقافتی ورثے پر بھی حملہ کیا۔ میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ ان کے آبائی گاؤں کے بہت سے پرانے مندروں اور تاریخی عمارتوں کو جاپانیوں نے تباہ کر دیا تھا یا ان کی شکل بدل دی تھی تاکہ انہیں جاپانی نظر آئے۔ کوریائی فنون، موسیقی اور ادب کو دبا دیا گیا اور اس کی جگہ جاپانی ثقافت کو فروغ دیا گیا۔ جاپانی حکام نے پراپیگنڈا کے ذریعے کوریائی عوام کو یہ باور کرانے کی کوشش کی کہ جاپانی ثقافت برتر ہے اور کوریائی ثقافت کمتر ہے۔ یہ سب صرف اس لیے کیا جاتا تھا تاکہ کوریائی عوام کا اپنی ثقافت سے لگاؤ کم ہو جائے اور وہ جاپانی ثقافت کو اپنا لیں۔ یہ ایک بہت بڑا ظلم تھا کیونکہ کسی بھی قوم کا ثقافتی ورثہ اس کی پہچان ہوتا ہے اور اسے تباہ کرنا اس قوم کی روح کو مارنے کے مترادف ہے۔
خواتین پر مظالم اور غیر انسانی سلوک
جاپانی نوآبادیاتی دور میں کوریائی خواتین پر جو مظالم ڈھائے گئے، انہیں بیان کرتے ہوئے بھی میری روح کانپ جاتی ہے۔ میں نے کئی دستاویزی فلمیں دیکھی ہیں اور بہت سی کتابیں پڑھی ہیں جن میں ان دل دہلا دینے والی کہانیوں کا ذکر ہے۔ “کمفرٹ ویمن” کا معاملہ ایک ایسا گھناؤنا باب ہے جسے دنیا کبھی فراموش نہیں کر سکتی۔ یہ وہ کوریائی خواتین تھیں جنہیں جاپانی فوجیوں کے لیے جبری جنسی غلام بنایا گیا۔ انہیں اپنے گھروں سے اغوا کیا گیا اور فوجی اڈوں پر لے جایا گیا جہاں انہیں روزانہ کی بنیاد پر تشدد اور جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا جاتا تھا۔ میری ایک بزرگ خاتون نے مجھے بتایا کہ ان کی گاؤں کی بہت سی لڑکیاں اس دوران غائب ہو گئی تھیں اور پھر کبھی واپس نہیں آئیں۔ یہ ایک ایسی شرمناک حقیقت ہے جو انسانیت کے ماتھے پر کلنک کا ٹیکہ ہے۔ یہ صرف جسمانی تشدد نہیں تھا بلکہ یہ ایک ایسی نفسیاتی اور جذباتی تباہی تھی جو ان خواتین کی پوری زندگی کو نگل گئی۔ میں یہ سوچ کر کانپ اٹھتا ہوں کہ ان بے بس خواتین نے کن اذیتوں کا سامنا کیا ہوگا۔
کمفرٹ ویمن: ایک بھولی بسری چیخ
جب میں “کمفرٹ ویمن” کے بارے میں سنتا ہوں تو میرا دل خون کے آنسو روتا ہے۔ یہ ایک ایسی حقیقت ہے جسے جاپانی حکومت نے طویل عرصے تک چھپانے کی کوشش کی، لیکن زندہ بچ جانے والی خواتین کی بہادری اور ان کی گواہیوں نے اسے دنیا کے سامنے آشکار کر دیا۔ ان خواتین کی تعداد ہزاروں میں تھی، جنہیں مختلف بہانوں سے اغوا کیا گیا اور جاپانی فوجیوں کی حیوانی خواہشات کی بھینٹ چڑھا دیا گیا۔ میرے ایک ہمدرد ساتھی نے اس موضوع پر بہت تحقیق کی ہے اور وہ بتاتے ہیں کہ یہ خواتین اپنی زندگی کے آخری لمحات تک اس صدمے سے باہر نہیں آ سکیں، اور ان کی روحیں ہمیشہ چیختی رہیں۔ ان کے جسموں پر جو زخم تھے، وہ تو بھر گئے، لیکن ان کی روحوں پر جو زخم لگے وہ کبھی نہیں بھرے۔ یہ ایک ایسی تاریخ ہے جسے یاد رکھنا بہت ضروری ہے تاکہ مستقبل میں ایسی وحشتیں دوبارہ نہ ہوں۔
سماجی اور خاندانی دباؤ
ان مظالم کے بعد بھی، ان خواتین کو سماجی اور خاندانی دباؤ کا سامنا کرنا پڑا۔ بہت سی خواتین جب واپس آئیں تو انہیں معاشرے نے قبول نہیں کیا یا ان سے کنارہ کشی اختیار کر لی گئی، کیونکہ اس وقت کے معاشرتی اصول بہت سخت تھے۔ انہیں اپنی کہانی سنانے کی اجازت نہیں تھی اور انہیں چپ رہنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ میری ایک عزیز دوست کی نانی اس وقت سے گزری ہیں اور وہ کہتی تھیں کہ انہیں زندگی بھر اس راز کو چھپا کر جینا پڑا، اور انہیں کبھی اس زخم کو بھرنے کا موقع نہیں ملا۔ یہ نہ صرف جاپانیوں کا ظلم تھا بلکہ اس کے بعد بھی ان خواتین کو اپنی قوم اور معاشرے سے بھی مکمل انصاف اور ہمدردی نہیں ملی۔
مزاحمت اور امید کی چمک
ان تمام مظالم کے باوجود، کوریائی عوام نے کبھی ہمت نہیں ہاری۔ یہ بات میرے لیے ہمیشہ متاثر کن رہی ہے کہ کیسے انسان انتہائی مشکل حالات میں بھی امید کا دامن نہیں چھوڑتا۔ کوریائی عوام نے مختلف طریقوں سے جاپانی نوآبادیاتی حکمرانی کے خلاف مزاحمت کی۔ آزادی کی تحریکیں شروع ہوئیں، خفیہ تنظیمیں بنیں، اور بہت سے کوریائی محب وطنوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔ مجھے یہ جان کر بہت فخر ہوتا ہے کہ اس وقت بھی ایسے بہادر لوگ تھے جو ظلم کے سامنے جھکے نہیں۔ مارچ 1919 کی تحریک ایک روشن مثال ہے جہاں لاکھوں کوریائی عوام نے پرامن طریقے سے آزادی کا مطالبہ کیا۔ میری ایک پرانی دوست کے دادا اس تحریک میں شامل تھے اور وہ بتاتے تھے کہ لوگ اپنی جانوں کی پرواہ کیے بغیر سڑکوں پر نکل آئے تھے اور آزادی کے نعرے لگا رہے تھے۔ یہ ایک ایسی تحریک تھی جس نے جاپانیوں کو حیران کر دیا اور دنیا کو کوریائی عوام کے جذبے سے آگاہ کیا۔
مارچ 1919 کی تحریک: ایک عوامی بیداری
مارچ 1919 کی تحریک کوریائی عوام کی بیداری کا ایک شاندار مظاہرہ تھی۔ میرے خیال میں یہ صرف ایک احتجاج نہیں تھا، بلکہ یہ ایک قوم کی روح کا اظہار تھا۔ یہ تحریک اس وقت شروع ہوئی جب کوریائی بادشاہ گوجونگ کی موت ہوئی، جس پر یہ شبہ کیا گیا کہ انہیں جاپانیوں نے زہر دیا تھا۔ اس کے بعد کوریائی طلباء اور دانشوروں نے آزادی کا مطالبہ کیا اور لاکھوں لوگ اس تحریک کا حصہ بن گئے۔ مجھے ایک دستاویزی فلم میں دکھایا گیا تھا کہ کس طرح لوگ ہاتھوں میں کوریائی جھنڈے لیے سڑکوں پر تھے اور “مانسے” (آزادی) کے نعرے لگا رہے تھے۔ یہ ایک پرامن تحریک تھی لیکن جاپانیوں نے اسے بے دردی سے کچلنے کی کوشش کی اور ہزاروں لوگوں کو گرفتار کیا، قید کیا اور مار ڈالا۔ لیکن اس تحریک نے دنیا کو یہ پیغام دیا کہ کوریائی عوام اپنی آزادی کے لیے کسی بھی قربانی سے دریغ نہیں کریں گے۔
بیرون ملک سے آزادی کی جدوجہد
جاپانی قبضے کے دوران کوریائی عوام نے صرف اندرون ملک ہی نہیں بلکہ بیرون ملک بھی اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ چین، روس، اور امریکہ میں کوریائی کمیونٹیز نے آزادی کی تنظیمیں بنائیں اور بین الاقوامی برادری میں کوریا کی حالت زار کو اجاگر کیا۔ میری ایک پرانی میٹنگ میں، ایک کورین بزرگ نے بتایا کہ ان کے والد اس وقت چین میں تھے اور وہاں سے آزادی کی تحریک کے لیے فنڈز اکٹھا کرتے تھے اور خبریں بھیجتے تھے۔ انہوں نے عالمی سطح پر جاپان کے مظالم کو بے نقاب کیا اور کوریا کی آزادی کے لیے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی۔ ان کا یہ عمل اس بات کا ثبوت ہے کہ کوریائی عوام کسی بھی قیمت پر اپنی آزادی چاہتے تھے۔ یہ ایک ایسی طویل اور مشکل جدوجہد تھی جہاں ہر فرد نے اپنا کردار ادا کیا۔
ماضی کے زخم اور مستقبل کی یادداشت

آج بھی، جاپانی نوآبادیاتی دور کے زخم کوریائی عوام کے دلوں میں تازہ ہیں۔ یہ محض تاریخ کا ایک باب نہیں، بلکہ ایک زندہ حقیقت ہے جو بہت سی نسلوں کے تجربات کا حصہ بن چکی ہے۔ جب میں کوریائی بزرگوں سے بات کرتا ہوں تو مجھے ان کی باتوں میں وہ درد اور تکلیف صاف محسوس ہوتی ہے۔ یہ ایک ایسی وراثت ہے جو انہیں ان کے آباؤ اجداد سے ملی ہے۔ ماضی کے اس تاریک دور کو یاد رکھنا بہت ضروری ہے، صرف اس لیے نہیں کہ ہم ان مظالم کو بھلا نہ پائیں، بلکہ اس لیے بھی کہ ہم اس سے سبق سیکھ سکیں اور مستقبل میں ایسے حالات سے بچ سکیں۔ کوریائی حکومت اور عوام نے اس تاریخ کو زندہ رکھنے کے لیے بہت کوششیں کی ہیں، تعلیمی اداروں میں اس کے بارے میں پڑھایا جاتا ہے، عجائب گھر بنائے گئے ہیں، اور یادگاری مقامات قائم کیے گئے ہیں۔ یہ سب اس لیے ہے تاکہ یہ نسلیں اس بات کو یاد رکھیں کہ ان کے آباؤ اجداد نے کس طرح کی مشکلات کا سامنا کیا۔ مجھے یہ بات ہمیشہ اچھی لگتی ہے کہ کوریائی عوام نے اپنے ماضی کو چھپایا نہیں بلکہ اسے دنیا کے سامنے پیش کیا تاکہ تاریخ سے سبق سیکھا جا سکے۔
تاریخی سچائی کا اعتراف
تاریخی سچائی کا اعتراف کسی بھی قوم کے لیے بہت اہم ہوتا ہے۔ کوریائی عوام آج بھی جاپان سے اپنے مظالم کے مکمل اعتراف اور معافی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ میرے ایک ہم خیال دوست نے اس موضوع پر بہت سی تحریریں لکھی ہیں اور وہ ہمیشہ کہتے ہیں کہ جب تک جاپان مکمل طور پر اپنے جرائم کا اعتراف نہیں کرتا، زخم بھر نہیں سکتے۔ یہ صرف ایک سیاسی مسئلہ نہیں، بلکہ یہ ایک اخلاقی اور انسانی مسئلہ ہے۔ مجھے یقین ہے کہ سچائی کو چھپانے سے کبھی بھی مستقل امن قائم نہیں ہو سکتا۔ اس کے لیے دونوں قوموں کو مل کر کام کرنا ہو گا تاکہ ماضی کے زخموں کو بھرا جا سکے اور مستقبل کے لیے ایک بہتر راستہ نکالا جا سکے۔
امن اور ہم آہنگی کی طرف بڑھتے قدم
ان تمام تر مشکلات کے باوجود، کوریائی عوام نے کبھی بھی امن اور ہم آہنگی کے حصول کی کوشش ترک نہیں کی۔ مجھے یہ دیکھ کر خوشی ہوتی ہے کہ آج بھی، مشکل ماضی کے باوجود، دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری ہیں۔ ثقافتی تبادلے ہو رہے ہیں، لوگ ایک دوسرے کے ممالک کا سفر کر رہے ہیں، اور دونوں قوموں کے درمیان سمجھ بوجھ بڑھ رہی ہے۔ میرے خیال میں یہی وہ راستہ ہے جو ہمیں بہتر مستقبل کی طرف لے جا سکتا ہے۔ ہمیں ماضی کو یاد رکھنا چاہیے لیکن اس کے ساتھ ساتھ مستقبل کی طرف بھی دیکھنا چاہیے۔ یہ ایک ایسی امید ہے جو مجھے ہمیشہ متاثر کرتی ہے کہ انسان نفرت اور عداوت سے نکل کر محبت اور امن کی راہ اپنا سکتا ہے۔ یہ ایک ایسی مشترکہ کوشش ہے جو دونوں اقوام کے لیے بہتر ثابت ہو سکتی ہے۔
ذیل میں جاپانی نوآبادیاتی دور میں کوریائی عوام پر مظالم سے متعلق کچھ اہم نکات کا خلاصہ ایک نظر میں:
| پہلو | تفصیل |
|---|---|
| جبری مشقت | لاکھوں کوریائی مردوں کو جاپانی کانوں، فیکٹریوں اور فوجی تنصیبات میں غیر انسانی حالات میں کام کرنے پر مجبور کیا گیا۔ |
| مالی استحصال | کوریائی اراضی، وسائل اور صنعت پر جاپان کا قبضہ، کسانوں سے بھاری ٹیکس اور کم اجرت۔ |
| نسلی امتیاز | کوریائی عوام کو جاپانیوں سے کمتر سمجھا جاتا تھا، انہیں جاپانی نام رکھنے اور جاپانی زبان استعمال کرنے پر مجبور کیا گیا۔ |
| ثقافتی دباؤ | کوریائی زبان، فنون اور ادب پر پابندیاں، جاپانی ثقافت کو فروغ دیا گیا۔ |
| کمفرٹ ویمن | ہزاروں کوریائی خواتین کو جاپانی فوجیوں کے لیے جبری جنسی غلام بنایا گیا۔ |
| مزاحمت | مارچ 1919 کی تحریک اور بیرون ملک سے آزادی کی جدوجہد کے ذریعے کوریائی عوام نے مزاحمت جاری رکھی۔ |
اقتصادی جبر کا گھناؤنا چہرہ
جاپانی نوآبادیاتی دور میں اقتصادی جبر کا گھناؤنا چہرہ میرے سامنے جب آتا ہے تو مجھے یقین نہیں آتا کہ انسان دوسرے انسان کے ساتھ ایسا بھی کر سکتا ہے۔ یہ صرف وسائل کی لوٹ مار نہیں تھی بلکہ یہ ایک پوری قوم کی اقتصادی ریڑھ کی ہڈی توڑنے کی کوشش تھی۔ جاپانیوں نے کوریا کو اپنے لیے ایک خام مال کا ذریعہ بنا لیا تھا جہاں سے وہ سستے داموں وسائل حاصل کرتے اور اپنی صنعتوں کو ترقی دیتے۔ کوریائی عوام کو اپنی مصنوعات بیچنے کے لیے جاپانی منڈیوں پر انحصار کرنا پڑتا تھا اور انہیں جاپانی مصنوعات خریدنے پر مجبور کیا جاتا تھا۔ میری ایک بزرگ رشتہ دار کی کہانی ہے کہ ان کے والد نے ایک چھوٹی سی فیکٹری کھولنے کی کوشش کی تھی لیکن جاپانی حکام نے اسے چلنے نہیں دیا کیونکہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ کوئی کوریائی خود مختار بنے۔ یہ ایک ایسا نظام تھا جس میں کوریائی عوام کو ہمیشہ جاپانیوں کے محتاج بنا کر رکھنا مقصد تھا۔
جاپانی کرنسی اور مالی کنٹرول
مجھے یہ جان کر حیرت ہوئی کہ جاپانیوں نے کس طرح کوریائی کرنسی کو تبدیل کر کے اپنی کرنسی رائج کی۔ یہ صرف کرنسی کا مسئلہ نہیں تھا بلکہ یہ کوریا کی پوری مالیاتی نظام پر قبضے کی کوشش تھی۔ کوریائی بینکوں پر جاپانیوں کا کنٹرول تھا اور کوریائی کاروباری افراد کو قرضے لینے یا کاروبار بڑھانے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا۔ میرے ایک دوست کے دادا جو اس دور میں ایک چھوٹے سے دکاندار تھے، وہ بتاتے تھے کہ انہیں جاپانی کرنسی میں ہی لین دین کرنا پڑتا تھا اور جاپانی حکام کے سخت قوانین کی وجہ سے انہیں کاروبار چلانے میں بہت دشواری پیش آتی تھی۔ یہ ایک ایسا مالیاتی دباؤ تھا جس نے کوریائی معیشت کو اپاہج کر دیا تھا۔
وسائل کی بے دریغ لوٹ مار
جاپان نے کوریا کے قدرتی وسائل کو بے دردی سے لوٹا۔ کوریا میں کوئلے، لوہے اور دیگر قیمتی دھاتوں کے ذخائر تھے، جنہیں جاپانیوں نے اپنے فوجی مقاصد اور صنعتی ترقی کے لیے استعمال کیا۔ میں نے کئی تصاویر دیکھی ہیں جن میں کوریائی مزدوروں کو جاپانی کانوں میں کام کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے جہاں سے سونا اور چاندی نکالی جاتی تھی۔ یہ تمام دولت کوریا سے جاپان منتقل کی جاتی تھی اور کوریائی عوام کو اس کا کوئی فائدہ نہیں ہوتا تھا۔ میری ایک آنٹی کے والد جو اس وقت کان کنی کے علاقے میں رہتے تھے، وہ بتاتے تھے کہ جاپانی افسران کیسے اپنی مرضی سے کوریائی کانوں سے سارا مال نکال کر لے جاتے تھے اور کوریائی مزدوروں کو صرف بھوک اور بدحالی ملتی تھی۔ یہ ایک ایسی لوٹ مار تھی جس نے کوریا کو مزید غریب کر دیا۔
صحت اور حفظان صحت کی تباہی
جاپانی نوآبادیاتی دور میں کوریائی عوام کے لیے صحت اور حفظان صحت کے حالات انتہائی خراب تھے۔ مجھے یہ سوچ کر افسوس ہوتا ہے کہ انسانیت کی بنیادی ضروریات سے بھی انہیں محروم رکھا گیا۔ جاپانی حکام نے کوریائی علاقوں میں صحت کی سہولیات کو بہتر بنانے پر کوئی توجہ نہیں دی، بلکہ ان کی حالت کو مزید خراب کیا۔ ہسپتالوں میں کوریائی مریضوں کے ساتھ امتیازی سلوک کیا جاتا اور انہیں مناسب علاج فراہم نہیں کیا جاتا۔ میری ایک عزیزہ کی دادی اس وقت کی کہانی بتاتی تھیں کہ اگر کوئی کوریائی بیمار ہو جاتا تو اسے طبی امداد کے لیے بہت بھاگ دوڑ کرنی پڑتی تھی اور اکثر انہیں علاج نہیں مل پاتا تھا۔ اس کی وجہ سے بیماریاں تیزی سے پھیلتی تھیں اور اموات کی شرح بہت زیادہ تھی۔ یہ ایک ایسا دور تھا جہاں زندگی کی قدر بہت کم تھی۔
وبائی امراض اور طبی امداد کا فقدان
جاپانی قبضے کے دوران کوریا میں وبائی امراض کا پھیلنا عام بات تھی۔ چونکہ حفظان صحت کا کوئی انتظام نہیں تھا اور لوگ غیر انسانی حالات میں رہتے تھے، اس لیے ہیضہ، تپ دق اور دیگر بیماریاں تیزی سے پھیلتی تھیں۔ جاپانی حکام نے ان بیماریوں کو کنٹرول کرنے کے لیے کوئی خاص اقدامات نہیں کیے۔ مجھے یہ جان کر دکھ ہوا کہ جب کوئی وباء پھیلتی تھی تو کوریائی عوام کو اپنے حال پر چھوڑ دیا جاتا تھا اور انہیں طبی امداد نہیں ملتی تھی۔ میرے ایک بزرگ رشتے دار نے بتایا کہ ان کے بچپن میں ان کے گاؤں میں ہیضے کی وباء پھیلی تھی اور بہت سے لوگ مر گئے تھے کیونکہ کوئی ڈاکٹر یا دوا میسر نہیں تھی۔ یہ ایک ایسی صورتحال تھی جہاں لوگوں کی جانوں کی کوئی قیمت نہیں تھی۔
جاپانی فوجیوں کا ظلم اور صحت پر اثرات
جاپانی فوجیوں کا کوریائی عوام پر تشدد اور ظلم بھی ان کی صحت پر گہرے اثرات مرتب کرتا تھا۔ جسمانی تشدد سے بہت سے لوگ معذور ہو جاتے یا جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے۔ نفسیاتی تشدد نے انہیں ذہنی مریض بنا دیا تھا۔ مجھے یاد ہے ایک دستاویزی فلم میں ایک بوڑھے کوریائی شخص نے بتایا کہ وہ جاپانی فوجیوں کے ہاتھوں تشدد کا نشانہ بنے تھے اور اس کے بعد وہ ساری زندگی اس صدمے سے نہیں نکل پائے۔ انہیں ذہنی سکون کبھی نہیں ملا۔ یہ نہ صرف جسمانی بلکہ ذہنی صحت کو بھی تباہ کرنے کی ایک سوچی سمجھی سازش تھی۔
ختم کرتے ہوئے
ہم نے آج جاپانی نوآبادیاتی دور میں کوریائی عوام پر ڈھائے جانے والے مظالم کی ان دلخراش کہانیوں کو ایک بار پھر یاد کیا۔ یہ صرف گزرے ہوئے وقت کی داستانیں نہیں ہیں بلکہ یہ ہمیں انسانی تاریخ کے ایک ایسے تاریک باب کی یاد دلاتی ہیں جہاں انسانیت کی دھجیاں اڑا دی گئیں۔ میرا دل آج بھی ان بے بس لوگوں کی تکالیف کو سوچ کر غم سے بھر جاتا ہے جنہوں نے اپنی زندگیوں میں ایسے حالات کا سامنا کیا۔ یہ صرف کوریا کی تاریخ نہیں بلکہ یہ ہر اس قوم کے لیے ایک سبق ہے جسے کبھی ظلم و جبر کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ ہمیں ان قربانیوں کو ہمیشہ یاد رکھنا چاہیے اور اس بات کا عہد کرنا چاہیے کہ آئندہ کبھی کسی قوم کو ایسے حالات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اس دوران گزری ہوئی ہر داستان میں ایک چیخ پوشیدہ ہے، ایک ایسی چیخ جو ہمیں یاد دلاتی ہے کہ آزادی اور انسانی حقوق کا حصول کتنا قیمتی ہے۔
مفید معلومات
1. تاریخی واقعات سے سبق سیکھنا: یہ بہت ضروری ہے کہ ہم اپنی تاریخ کو گہرائی سے سمجھیں اور اس سے سبق حاصل کریں۔ جاپانی نوآبادیاتی دور میں کوریائی عوام پر ہونے والے مظالم ہمیں یہ سکھاتے ہیں کہ جب طاقت کا غلط استعمال ہوتا ہے تو اس کے نتائج کتنے خوفناک ہو سکتے ہیں۔ ہمیں ان واقعات کو صرف تاریخ کے طور پر نہیں دیکھنا چاہیے بلکہ اس سے مستقبل کے لیے رہنمائی حاصل کرنی چاہیے۔ یہ ہمیں بتاتا ہے کہ کس طرح نسلی امتیاز، اقتصادی استحصال اور ثقافتی دباؤ ایک معاشرے کو تباہ کر سکتا ہے۔ ان کہانیوں کو یاد رکھنا نہ صرف ان قربانیوں کو خراج تحسین ہے بلکہ یہ عالمی امن اور انسانی حقوق کے لیے ہماری جدوجہد کو بھی تقویت دیتا ہے کہ ہمیں ہر صورت میں ظلم کے خلاف کھڑا ہونا چاہیے۔ ہمیں آنے والی نسلوں کو بھی اس بارے میں آگاہ کرنا چاہیے تاکہ وہ اپنے حقوق کے لیے لڑنا سیکھیں اور انسانیت کے خلاف ایسے جرائم دوبارہ کبھی نہ ہوں۔
2. مستقبل کی طرف بڑھتے ہوئے ہم آہنگی کی اہمیت: ماضی کے زخموں کو بھلانا مشکل ہے، لیکن ہمیں یہ سمجھنا چاہیے کہ امن اور ہم آہنگی ہی بہتر مستقبل کی ضمانت ہیں۔ جاپان اور کوریا کے تعلقات میں تلخی اپنی جگہ، لیکن ان دونوں اقوام کے درمیان تعلقات کو بہتر بنانے کی کوششیں جاری رہنی چاہئیں۔ یہ وقت کی ضرورت ہے کہ دونوں ممالک ایک دوسرے کے تاریخی نقطہ نظر کو سمجھیں اور باہمی احترام کو فروغ دیں۔ میری دلی خواہش ہے کہ وہ دن آئے جب ان دونوں عظیم قوموں کے درمیان مکمل ہم آہنگی پیدا ہو اور وہ ایک دوسرے کے ساتھ مل کر دنیا کی ترقی میں اپنا کردار ادا کر سکیں۔ یہ صرف ان کی اپنی ترقی کے لیے ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے امن و استحکام کے لیے بھی ضروری ہے کہ ماضی کے زخموں کو حکمت اور سمجھداری سے بھرا جائے۔ اس سے نہ صرف ان قوموں کے درمیان رشتوں کی مضبوطی ہوگی بلکہ عالمی سطح پر بھی امن کا ایک مثبت پیغام جائے گا۔
3. مظلوم اقوام کے لیے آواز اٹھانا: دنیا بھر میں آج بھی بہت سی ایسی اقوام ہیں جو جبر و استبداد کا شکار ہیں۔ کوریائی عوام کی جدوجہد ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ مظلوموں کی آواز بننا کتنا اہم ہے۔ ہمیں عالمی سطح پر ایسی اقوام کی حمایت کرنی چاہیے جن کے انسانی حقوق پامال ہو رہے ہوں۔ مجھے یقین ہے کہ ہر انسان کو آزادی اور عزت سے جینے کا حق حاصل ہے اور یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم اس حق کے لیے آواز اٹھائیں۔ ہمیں ان طاقتور ممالک کو چیلنج کرنا چاہیے جو کمزور اقوام پر ظلم ڈھاتے ہیں اور ان کے حقوق کو سلب کرتے ہیں۔ میڈیا اور سوشل میڈیا کے اس دور میں ہم سب کی ذمہ داری ہے کہ ہم عالمی برادری کو ایسے مظالم سے آگاہ کریں اور انصاف کی فراہمی میں اپنا کردار ادا کریں۔ اپنی آواز بلند کرنا ہی مظلوموں کو طاقت دیتا ہے اور انہیں امید کی کرن دکھاتا ہے کہ وہ تنہا نہیں ہیں۔
4. ثقافت اور شناخت کا تحفظ: جاپانی نوآبادیاتی دور میں کوریائی ثقافت اور زبان پر حملے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ کسی بھی قوم کے لیے اپنی ثقافت اور شناخت کا تحفظ کتنا ضروری ہے۔ میری رائے میں، اپنی مادری زبان، ادب، فنون اور رسم و رواج کو زندہ رکھنا نہ صرف قومی فخر کا باعث ہے بلکہ یہ قوموں کو اپنی جڑوں سے جوڑے رکھتا ہے۔ ہمیں اپنی ثقافت کو فروغ دینا چاہیے اور اسے آنے والی نسلوں تک منتقل کرنا چاہیے۔ عالمی سطح پر بھی ہمیں اپنی ثقافتی اقدار کا احترام کرنا چاہیے اور دوسروں کی ثقافتوں کو بھی قدر کی نگاہ سے دیکھنا چاہیے۔ یہ ایک ایسی وراثت ہے جو ہمیں اپنے آباؤ اجداد سے ملتی ہے اور اسے محفوظ رکھنا ہماری ذمہ داری ہے۔ جب ایک قوم اپنی ثقافت سے کٹ جاتی ہے تو وہ اپنی شناخت بھی کھو دیتی ہے۔ اس لیے، اپنی ثقافتی ورثے کی حفاظت کرنا قوم کی روح کو زندہ رکھنے کے مترادف ہے۔
5. اقتصادی خود مختاری کی اہمیت: کوریائی عوام کو جاپانی نوآبادیاتی دور میں جس اقتصادی استحصال کا سامنا کرنا پڑا، وہ ہمیں سکھاتا ہے کہ کسی بھی قوم کے لیے اقتصادی خود مختاری کتنی ضروری ہے۔ میری سوچ کے مطابق، ایک قوم اس وقت تک مکمل طور پر آزاد نہیں ہو سکتی جب تک وہ اقتصادی طور پر خود مختار نہ ہو۔ ہمیں اپنی اقتصادی پالیسیوں کو مضبوط بنانا چاہیے تاکہ بیرونی طاقتیں ہمارے وسائل کا استحصال نہ کر سکیں۔ ہمیں اپنی صنعتوں کو فروغ دینا چاہیے، اپنی زراعت کو مضبوط بنانا چاہیے اور اپنے لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع پیدا کرنے چاہیے۔ یہ سب کچھ ہمیں ایک مضبوط اور خوشحال قوم بنانے میں مدد دے گا۔ جب کوئی قوم اقتصادی طور پر مستحکم ہوتی ہے تو وہ سیاسی اور سماجی طور پر بھی مضبوط ہوتی ہے۔ یہ ہمیں سبق دیتا ہے کہ اپنے وسائل کی حفاظت کرنا اور اپنی اقتصادی ترقی کو یقینی بنانا قومی خودمختاری کا ایک اہم ستون ہے۔
اہم نکات کا خلاصہ
جاپانی نوآبادیاتی دور (1910-1945) کوریائی تاریخ کا ایک دردناک باب ہے۔ اس دوران کوریائی عوام کو جبری مشقت، مالی استحصال، نسلی امتیاز، ثقافتی دباؤ، اور خواتین پر مظالم کا سامنا کرنا پڑا۔ جاپانی حکام نے کوریا کے وسائل کو بے دردی سے لوٹا اور کوریائی شناخت کو مٹانے کی ہر ممکن کوشش کی۔ ہزاروں کوریائی مردوں کو کانوں اور فیکٹریوں میں کام کرنے پر مجبور کیا گیا، جبکہ ہزاروں خواتین کو “کمفرٹ ویمن” کے نام پر جنسی غلام بنایا گیا۔ کوریائی زبان، فنون اور روایات پر پابندی عائد کی گئی اور جاپانی زبان و ثقافت کو زبردستی نافذ کیا گیا۔ ان تمام تر مظالم کے باوجود، کوریائی عوام نے کبھی ہمت نہیں ہاری اور مارچ 1919 کی تحریک جیسی کئی مزاحمتی تحریکوں کے ذریعے اپنی آزادی کی جدوجہد جاری رکھی۔ آج بھی یہ زخم کوریائی عوام کے دلوں میں تازہ ہیں اور وہ جاپان سے اپنے مظالم کے مکمل اعتراف کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ اس تاریک ماضی کو یاد رکھنا ضروری ہے تاکہ ہم مستقبل میں امن، انسانیت اور باہمی احترام کو فروغ دے سکیں۔
اکثر پوچھے گئے سوالات (FAQ) 📖
س: جاپانی نوآبادیاتی دور میں کوریائی عوام کو کن قسم کی جبری مشقت کا سامنا کرنا پڑا اور انہیں کن علاقوں میں بھیجا گیا؟
ج: بھائیو اور بہنو، میں جب جاپانی نوآبادیاتی دور میں کوریائی عوام پر گزرنے والی کہانیوں کو دیکھتا ہوں تو دل دہل جاتا ہے۔ ان سے جس قسم کی جبری مشقت کروائی گئی، وہ ہماری سوچ سے بھی زیادہ ظالمانہ تھی۔ زیادہ تر کوریائی مردوں کو جاپان، منچوریا اور یہاں تک کہ روس کے سخالین جیسے دور دراز علاقوں میں بھیجا جاتا تھا تاکہ وہاں کی کوئلے کی کانوں، فیکٹریوں، اور فوجی تعمیراتی منصوبوں میں دن رات جانوروں کی طرح کام کریں۔ انہیں نہ تو مناسب اجرت ملتی تھی اور نہ ہی انہیں انسان سمجھا جاتا تھا۔ مزدوروں کے حقوق تو دور کی بات، انہیں بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا گیا۔ میری تحقیق کے مطابق، ہزاروں کوریائی خواتین کو بھی ‘کمفرٹ ویمن’ کے طور پر غیر انسانی استحصال کا نشانہ بنایا گیا، جو کہ تاریخ کا ایک سیاہ باب ہے۔ انہیں گھروں سے جبراً اٹھا کر فوجی اڈوں پر بھیجا جاتا تھا جہاں ان کی زندگی جہنم بن جاتی تھی۔ یہ سب کچھ سوچ کر آج بھی رونا آتا ہے کہ کیسے انسانوں کے ساتھ اس قدر ظلم روا رکھا گیا۔
س: ان مزدوروں کے لیے کام کرنے اور رہنے کے حالات کیسے تھے؟
ج: میں نے کئی پرانی دستاویزات اور متاثرین کی شہادتوں کو کھنگالا ہے، اور جو کچھ سامنے آیا وہ دل کو چھلنی کر دیتا ہے۔ مزدوروں کے حالات اتنے برے تھے کہ انہیں رہنے کے لیے تنگ اور گندی بیرکیں ملتی تھیں، جہاں نہ صفائی کا انتظام تھا اور نہ ہی صحت کا خیال رکھا جاتا تھا۔ کھانا پینا اتنا کم ہوتا تھا کہ وہ ہڈیوں کا ڈھانچہ بن کر رہ جاتے تھے۔ اکثر بھوک سے ہی لوگ مر جاتے۔ کام کے اوقات اتنے لمبے ہوتے تھے کہ سورج نکلنے سے پہلے شروع ہوتا اور دیر رات تک چلتا رہتا۔ حفاظت کا کوئی انتظام نہیں تھا، جس کی وجہ سے آئے دن حادثات ہوتے اور مزدور اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے۔ اگر کسی نے ذرا بھی مزاحمت کی یا تھک کر سستانا چاہا، تو اسے تشدد کا نشانہ بنایا جاتا۔ ان مزدوروں کا کوئی وقار نہیں تھا، انہیں صرف کام کرنے والی مشین سمجھا جاتا تھا جس سے زیادہ سے زیادہ کام نکالا جا سکے۔ مجھے ذاتی طور پر ایسا لگتا ہے کہ یہ انسانوں پر ہونے والا سب سے گھناؤنا ظلم تھا جہاں انہیں زندہ لاشوں میں بدل دیا گیا تھا۔
س: جاپانی نوآبادیاتی دور نے کوریائی معاشرے اور لوگوں پر کیا دیرپا اثرات مرتب کیے؟
ج: یہ ایک ایسا زخم ہے جو کوریائی عوام کے دلوں پر آج بھی ہرا ہے۔ جاپانی نوآبادیاتی دور کے اثرات صرف وقتی نہیں تھے بلکہ انہوں نے کوریائی معاشرے کی روح تک کو متاثر کیا۔ سب سے پہلے تو یہ کہ لاکھوں خاندان بچھڑ گئے، بہت سے لوگ کبھی اپنے گھر واپس نہیں آسکے۔ یہ ایک ایسا صدمہ تھا جو نسل در نسل منتقل ہوتا رہا۔ کوریائی زبان اور ثقافت کو دبانے کی کوشش کی گئی تاکہ انہیں جاپانی شناخت اپنانے پر مجبور کیا جا سکے۔ اس سے کوریائی قوم کی اپنی ثقافت سے لگاؤ کو گہرا صدمہ پہنچا۔ آج بھی کوریائی اور جاپان کے تعلقات میں اس تاریخی ناانصافی کی تلخی محسوس کی جاتی ہے۔ بہت سے متاثرین کو آج تک انصاف نہیں مل سکا، اور یہی وجہ ہے کہ یہ مسئلہ بین الاقوامی سطح پر بھی ایک حساس موضوع بنا ہوا ہے۔ یہ صرف تاریخ کا ایک باب نہیں، بلکہ انسانیت کے خلاف ایک بڑا جرم تھا جس نے ایک پوری قوم کی نفسیات پر گہرے اور دیرپا منفی اثرات مرتب کیے۔ جب میں اس بارے میں سوچتا ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ انصاف کی مکمل فراہمی کے بغیر یہ زخم کبھی بھی پوری طرح بھر نہیں سکتے۔






